پولیس جب کسی جوان جوڑے کو پارک میں پکڑتی ہیں تو اس پر مقدمہ امن امان میں خلل ڈالنے کا درج کرتی ہے، اسلئے کہ قانون کی نظر میں کسی شادی شدہ یا غیر شادی شدہ جوڑے کا آپس میں بیٹھنا، باتیں کرنا، گھومنا یا کھانا پینا کوئی جرم نہیں ہے، نہ پاکستانی قانون میں یا دنیا کسی اور جمہوریت میں اسکے لئے کوئی قانونی شق موجود ہے - مذہب اس طرح کی میل ملاپ کو گناہ سمجھتی ہے اور گناہ وہ خلاف ورزی ہے جس کا حساب کتاب اللہ تعالٰی کو دینا پڑتا ہے نہ کسی شخص کو، گروپ کو یہاں تک کے ریاست بھی اسکی مجاز نہیں کہ اسکا حساب کتاب رکھیں - دنیا کا ہر ایک مذہب بشمول اسلام گناہ اور جرم میں فرق کرتا ہے ، ایسے تمام افعال جسکا اپنے علاوہ کسی اور کو نقصان ہورہا ہو وہ جرائم ہیں، اور مذہب نے حکومت وقت کو اجازت دی ہے کہ ایسے تمام جرائم قابل سزا بنائے، اور شہری قانون کا حلف لیکر ایسے تمام قوانین کے پاسداری کا وعدہ کرتے ہیں، آسان الفاظ میں تمام جرائم گناہ ہوتے ہیں مگر ہر ایک گناہ جُرم نہیں ہوتا- بہت سارے جرائم ریاست کی نظر سے چُھپ سکتے ہیں مگر اللہ تعالٰی روز قیامت انکی سزائیں متعین کریے گا اور کوئی بھی جُرم بغیر سزا ی...
میرے پڑوس میں ایک شیطان صفت انسان رہتا ہے، پورا محلہ اسکی وجہ سے اذیت میں مبتلا رہتا ہے سارا سال، مگر ہر سال وہ ایک دفعہ محفل نعت کا بندوبست کرکے اپنے گناہ بخشوا دیتا ہے، اور لوگوں کو بتاتا بھی ہے کہ اس محلے میں میرے علاوہ سب جہنم جائیں گے، کیا آپ لوگوں نے عمران علی، معصوم ذینب کے قاتل کا کیس فالو کیا تھا، وہ اپنے بیان میں پولیس کو بتاتا ہے کہ ذینب کا ریپ کرنے کے بعد وہ سیدھا محفل نعت میں جا پہنچا، رپورٹ بتاتی ہے کہ وہ ایک بڑا ثناء خوان تھا- مسئلہ کدھر ہے؟ قرآن کریم میں ذکر کرنے والوں اور بیان کرنے والوں میں فرق ظاہر کیا گیا ہے اہل بیان سے کہا گیا ہے کہ اگر قرآن مجید کی سمجھ نہیں آرہی ہے تو اہل ذکر سے پوچھ لو، زبانی بیانیے سے اہل ذکر والوں کا اتنا تعلق نہیں ہوتا ہے جتنا اہل کردار کا ہوتا ہے بے شک حضور اکرم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کا کردار یا اسوہ سب سے افضل ہے، وہ سب سے ذیادہ رحیم، شفیق، کریم، مہربان صابر، وسعت قلب رکھنے والا، صادق اور امانت دار تھے، اگر ان صفات میں آپ میں کوئی بھی صفت پائی جاتی ہے تو آپ نبی کریم کا ذکر کررہے ہیں، آپ سب سے بڑے نعت خواں ہے اللہ تعالٰی نے یہی ذکر ...
Comments
Post a Comment