اللہ تعالٰی نے کائنات کا نظام چلانے کے لیے ایک نظام بنایا ہے، کچھ کام ملائکہ کے زریعے کرتا ہے کچھ خودکار سسٹم کے تخت ہوجاتے ہیں جس کو قانون فطرت بھی کہتے ہیں، قانون فطرت اصولوں کے تحت کام کرتا ہے یہ اصول ہم سائنس کے زریعے سمجھ بھی سکتے ہیں کچھ سمجھے ہیں کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، ملائکہ کے پاس جو ڈیوٹی ہے اسکے کچھ کچھ اشارے قرآن مجید میں دیے گئے ہیں - اللہ تعالٰی انسانوں سے بھی ڈیوٹی لیتا ہے، سارے انبیاء ڈیوٹی پر مامور کرکے بھیجے گئے تھے، اللہ تعالٰی شہید کے بارے میں بھی یہی کہتا ہے کہ انکو مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں میں انکو رزق دیتا ہوں اور وہ اپنے ڈیوٹی پر مامور ہیں - یعنی اللہ تعالٰی غیر انبیاء کو بھی ڈیوٹی پر مامور کرتا ہے، حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں بھی یہی اتفاق ہے کہ وہ اللہ کے انبیاء میں سے نہیں ہے مگر دنیا میں ڈیوٹی پر مامور ہیں - تو سوالات یہ پیدا ہوتے ہیں - تو سوالات یہ پیدا ہوتے ہیں - 1- کیا اللہ تعالٰی انسانوں کو دنیاوی امور چلانے کے لیے ڈیوٹی پر مامور کرتا ہے؟ ڈیوٹیاں مثلاً رزق تقسیم کرنا، زندگی اور موت کے فیصلے کرنا، مدد کرنا وغیرہ وغیرہ 2 - کیا موت کے بعد...
Comments
Post a Comment