جب کوئی سماجی یا سیاسی بیانیہ تخلیق ہوتا ہے تو بطور لسانیات کے سٹوڈنٹس ہمارے پاس یہ چیک کرنے کے لیے کچھ پیرامیٹرز موجود ہیں بعض پیرامیٹرز بہت ذیادہ سائنٹفک اور Systematic ہوتے ہیں اور ان پر کی گئی عقلی استدلال بہت ذیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے - کسی بھی بیانیے کے علاقائی یا غیر علاقائی وجود کو چیک کرنے کے لیے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ بیانیہ کس کس لیول پر موجود ہے - مثلاً کیا جو سیاسی یا سماجی بیانیہ میڈیا خاص طور پر سوشل میڈیا پر پیش کیا جاتا ہے کیا وہ دوسرے بیانیوں میں بھی موجود ہے کیا اسکی Representations علاقائی شاعری، علاقائی اور ثقافتی کہانیوں، ٹپے یا گانوں میں بھی ہے کہ نہیں، اگر یہ بیانیہ علاقائی طور پر مختلف صورتوں میں موجود ہے تو یہ الزام بے بنیاد بن جاتا ہے کہ اسکے پیچھے کوئی باہر کا دشمن ہے، کیونکہ علاقائی سطح پر خاص طور پر وہ لوگ جو نہ الیکٹرانک میڈیا سے متاثر ہیں نہ انھوں نے کبھی سوشل میڈیا استعمال کیا ہوا ان پر یہ الزام لگانا کہ انکے جذبات، احساسات اور درد کے پیچھے باہر کا دشمن ہے ایک عقل سے ماورا الزام اور استدلال ہے، ایسے احساسات اور جذبات کے عوامل لوکل...
علم کی ترقی ہمیشہ ایک علمی مناظرے اور ڈائیلاگ کی شکل میں ظہور پذیر ہوئی ہے، ڈائلاگ ہمیشہ فریقین کے درمیان ہوا ہے ہر ایک ڈائیلاگ ایک آرگومنٹ کی شکل میں پیش ہوا ہے- آرگومنٹ ہمیشہ عقلی یا سائنسی دلائل (Premises) کی صورت میں ہوتا ہے، مخالف فریق ہمیشہ اُن دلائل میں کمزوری تلاش کرتا ہے جس پر ایک ڈائلاگ کھڑی کردی گئی ہوتی ہے، سارے عقلی اور سائنسی ڈائیلاگ ایک تسلسل کے ساتھ وقوع پذیر ہوئے ہیں - مطلب، علم ایک نہ ٹوٹنے والی کڑی کی صورت میں موجود ہے - اس تسلسل کو سمجھنا طالب علمی ہے اس میں اضافہ کرنا علم ہے اسی تسلسل کو سمجھانا استادی ہے، تسلسل کو چھوڑ کر درمیان میں نقب زنی کرنا جہالت ہے کسی ایک حصے کو علم سمجھنا منافقت ہے، کسی ایک حصے کو اپنے پست مقاصد کے لیے استعمال کرنا تخریب کاری ہے - ہر ایک علمی ڈائلاگ کے پیچھے اسکا فلسفہ ہوتا ہے اسکی ایک تاریخ ہوتی ہے اسمیں انقلابی سوچ اور تبدیلیاں بھی وقوع پذیر ہوتی ہیں ہر ایک سوچ کے کچھ ماننے والے ہوتے ہیں اور کچھ پروموٹ کرنے والے -
Comments
Post a Comment