علم کی ترقی ہمیشہ ایک علمی مناظرے اور ڈائیلاگ کی شکل میں ظہور پذیر ہوئی ہے، ڈائلاگ ہمیشہ فریقین کے درمیان ہوا ہے ہر ایک ڈائیلاگ ایک آرگومنٹ کی شکل میں پیش ہوا ہے- آرگومنٹ ہمیشہ عقلی یا سائنسی دلائل (Premises) کی صورت میں ہوتا ہے، مخالف فریق ہمیشہ اُن دلائل میں کمزوری تلاش کرتا ہے جس پر ایک ڈائلاگ کھڑی کردی گئی ہوتی ہے، سارے عقلی اور سائنسی ڈائیلاگ ایک تسلسل کے ساتھ وقوع پذیر ہوئے ہیں - مطلب، علم ایک نہ ٹوٹنے والی کڑی کی صورت میں موجود ہے - اس تسلسل کو سمجھنا طالب علمی ہے اس میں اضافہ کرنا علم ہے اسی تسلسل کو سمجھانا استادی ہے، تسلسل کو چھوڑ کر درمیان میں نقب زنی کرنا جہالت ہے کسی ایک حصے کو علم سمجھنا منافقت ہے، کسی ایک حصے کو اپنے پست مقاصد کے لیے استعمال کرنا تخریب کاری ہے - ہر ایک علمی ڈائلاگ کے پیچھے اسکا فلسفہ ہوتا ہے اسکی ایک تاریخ ہوتی ہے اسمیں انقلابی سوچ اور تبدیلیاں بھی وقوع پذیر ہوتی ہیں ہر ایک سوچ کے کچھ ماننے والے ہوتے ہیں اور کچھ پروموٹ کرنے والے -
اللہ تعالٰی نے کائنات کا نظام چلانے کے لیے ایک نظام بنایا ہے، کچھ کام ملائکہ کے زریعے کرتا ہے کچھ خودکار سسٹم کے تخت ہوجاتے ہیں جس کو قانون فطرت بھی کہتے ہیں، قانون فطرت اصولوں کے تحت کام کرتا ہے یہ اصول ہم سائنس کے زریعے سمجھ بھی سکتے ہیں کچھ سمجھے ہیں کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، ملائکہ کے پاس جو ڈیوٹی ہے اسکے کچھ کچھ اشارے قرآن مجید میں دیے گئے ہیں - اللہ تعالٰی انسانوں سے بھی ڈیوٹی لیتا ہے، سارے انبیاء ڈیوٹی پر مامور کرکے بھیجے گئے تھے، اللہ تعالٰی شہید کے بارے میں بھی یہی کہتا ہے کہ انکو مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں میں انکو رزق دیتا ہوں اور وہ اپنے ڈیوٹی پر مامور ہیں - یعنی اللہ تعالٰی غیر انبیاء کو بھی ڈیوٹی پر مامور کرتا ہے، حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں بھی یہی اتفاق ہے کہ وہ اللہ کے انبیاء میں سے نہیں ہے مگر دنیا میں ڈیوٹی پر مامور ہیں - تو سوالات یہ پیدا ہوتے ہیں - تو سوالات یہ پیدا ہوتے ہیں - 1- کیا اللہ تعالٰی انسانوں کو دنیاوی امور چلانے کے لیے ڈیوٹی پر مامور کرتا ہے؟ ڈیوٹیاں مثلاً رزق تقسیم کرنا، زندگی اور موت کے فیصلے کرنا، مدد کرنا وغیرہ وغیرہ 2 - کیا موت کے بعد...
Comments
Post a Comment